سائنسدانوں نے نیند کی کمی کے شکار ہونے پر دماغ کے ایک حیرت انگیز عمل کو دریافت کیا ہے۔
یہ تو لگ بھگ سب کو معلوم ہے کہ ایک رات کی خراب نیند کے بعد توجہ مرکوز رکھنا مشکل ہوتا ہے، کام کے دوران دھیان بھٹک جاتا ہے، ردعمل کا وقت سست ہو جاتا ہے اور درست طریقے سے سوچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
مگر اس وقت دماغ کچھ ایسا حیرت انگیز کرتا ہے جس کا علم اب سائنسدانوں کو ہوا ہے۔
امریکا میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ جب ناقص نیند کے بعد دماغی توجہ متاثر ہوتی ہے تو دماغ کے اندر کیا ہوتا ہے۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ جب ایک سیال متحرک ہوتا ہے تو توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کچھ لمحات کے لیے ناکام ہو جاتی ہے۔
cerebrospinal fluid (سی ایس ایف) ایک ایسا دماغی عمل ہے جو نیند کے دوران ہوتا ہے اور دن بھر میں دماغ میں جمع ہونے والے کچرے کو صاف کر دیتا ہے۔
دماغی صفائی کی یہ سرگرمی دماغ کو صحت مند رکھنے کے لیے اہم مانا جاتی ہے۔
مگر اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جب کوئی فرد نیند کی کمی کا شکار ہوتا ہے تو ہمارا جسم اس کو پورا کرنے کے لیے اس سیال کی حرکت کو بیداری کے دوران متحرک کرتا ہے۔
مگر اس عمل سے توجہ بہت زیادہ کم ہو جاتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ جب آپ نیند کی کمی کے شکار ہوتے ہیں تو سی ایس ایف کا عمل بیداری میں ہونے لگتا ہے اور جب یہ سیال بہتا ہے تو ان لمحات میں توجہ کی صلاحیت کام نہیں کرپاتی۔
اسی تحقیقی ٹیم نے 2019 میں ایک تحقیق میں پہلی بار دریافت کیا تھا کہ نیند کے دوران یہ سیال دماغ میں حرکت کرکے صفائی کا کام کرتا ہے۔
ان نتائج کے بعد انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی جب کوئی فرد نیند کی کمی کا شکار ہوتا ہے تو پھر سیال کے اس نظام کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
اس مقصدکے لیے انہوں نے 26 رضاکاروں کی خدمات حاصل کیں اور ان کے 2 بار ٹیسٹ کیے۔
ایک بار ٹیسٹ لیبارٹری میں نیند کی کمی کے بعد کیے گئے جبکہ دوسری بار اس وقت کیے گئے جب ان کی نیند پوری ہوگئی تھی۔
اگلی صبح ان افراد سے مختلف کام مکمل کرائے گئے تاکہ دماغی افعال بالخصوص توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کی جانچ پڑتال کی جاسکے۔
محققین نے دریافت کیا کہ نیند کی کمی پر یہ سیال بیداری کے دوران متحرک ہوکر دماغ کی صفائی کرنے لگتاہ ے۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارے خیال میں اس طرح دماغ نیند کی کمی کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر نیورو سائنس میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply