دنیا بھر میں متعدد افراد امراض قلب، گردوں کے امراض، موٹاپے اور ذیابیطس ٹاپ 2 پر مبنی کڈنی میٹابولک سینڈروم (سی کے ایم) کا سامنا کرتے ہیں۔
مگر ان تمام دائمی امراض سے بچنا زیادہ مشکل نہیں بس چہل قدمی یا گھریلو کام کرنا عادت بنالیں۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیوں جیسے چہل قدمی سے کسی فرد میں ان دائمی امراض سے متاثر ہونے یا موت کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
عام طور پر کسی فرد میں سی کے ایم کا خطرہ دائمی ورم، ہائی بلڈ شوگر، ہائی کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر، گردوں کے افعال میں تنزلی یا توند نکلنے جیسے عناصر سے بڑھتا ہے۔
اس تحقیق میں 7200 افراد کی صحت اور جسمانی سرگرمیوں پر متعلق ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو 2003 سے 2006 کے درمیان اکٹھا کیا گیا تھا۔
تحقیق میں دیکھا گیا کہ ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیوں سے صحت پر طویل المعیاد بنیادوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیوں سے سی کے ایم کے شکار افراد میں موت کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ہلکی جسمانی سرگرمیوں سے سی کے ایم کے شکار افراد کی دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔
محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ ہلکی جسمانی سرگرمیوں کو روزانہ محض ایک گھنٹے تک بڑھانے سے آئندہ 14 برسوں میں موت کا خطرہ 14 سے 20 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
زیادہ جسمانی سرگرمیوں سے سی کے ایم کے شکار افراد کی صحت کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ بیٹھنے کے وقت کو کم کرکے عام جسمانی سرگرمیوں جیسے یوگا، چہل قدمی یا گھریلو کاموں کو معمول بنانے سے امراض قلب کے خطرے کے شکار افراد کی صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیاں بھی صحت کے لیے بہت زیادہ مفید ثابت ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روزمرہ کی زندگی میں ان سرگرمیوں کو اپنانا بیشتر افراد کے لیے آسان ہوتا ہے۔
البتہ محققین نے تسلیم کیا کہ نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ علم ہوسکے کہ ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیوں سے ذہنی صحت کو کیا فائدہ ہوتا ہے۔


























Leave a Reply