دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر کے باوجود وینزویلا غریب کیوں ہے؟


دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر کے باوجود وینزویلا غریب کیوں ہے؟

فوٹو: فائل

امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملے اور صدر مادورو  اور ان کی اہلیہ کو بغیر کسی مزاحمت کے امریکا منتقل کرنے پر دنیا بھر کی توجہ اس ملک پر اچانک مرکوز  ہوگئی ہے جو  تیل کی دولت  سے مالا مال ہونے کے باوجود معاشی مشکلات کا شکار  ہے۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ملک سیاہ سونے یعنی تیل کے ایک عظیم سمندر پر بیٹھا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2023 تک وینزویلا کے تصدیق شدہ تیل کے ذخائر تقریباً 303 ارب بیرل تھے۔ یہ مقدار سعودی عرب (267.2 ارب بیرل)، ایران اور کینیڈا جیسے بڑے ممالک سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

امریکا کے مقابلے میں دیکھا جائے تو اس کے پاس وینزویلا سے تقریباً پانچ گنا کم تیل ہے (55 ارب بیرل)۔ اس طرح وینزویلا کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں ہونا چاہیے تھا، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ ملک آج اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عام شہری کی قوت خرید بہت کم ہے۔ مقامی کرنسی بولیوار کی قدر شدید گراوٹ کا شکار ہے۔

شدید عالمی پابندیوں کے ساتھ اربوں ڈالرز کے قرضوں نے بھی وینزویلا کو جکڑ رکھا ہے۔ رائٹرز کے مطابق تجزیہ کاروں کا  اندازہ  ہے کہ  وینزویلا کے تقریباً  60 ارب ڈالر  مالیت کے ڈیفالٹ شدہ بانڈز تاحال واجب الادا ہیں جب کہ  وینزویلا کا مجموعی بیرونی قرضہ تقریباً 150 سے 170 ارب ڈالر کے درمیان بنتا ہے۔ 

عام قاری کے ذہن میں یہ سوال آنا فطری ہےکہ اتنا تیل ہونے کے باوجود وینزویلا اتنی معاشی مشکلات کا شکار کیوں ہے؟

 اس کا جواب وینزویلا کے جغرافیے اور ٹیکنالوجی میں پوشیدہ ہے۔ وینزویلا کا زیادہ تر تیل ملک کے مشرقی حصے میں واقع  اورینوکو بیلٹ میں پایا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ ہیوی کروڈ آئل (بھاری خام تیل) ہے۔ یہ تیل نہایت گاڑھا ہوتا ہے جسے نکالنا اور صاف کرنا عام تیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہے۔ اس تیل میں سلفر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جسے نکالنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بھاری سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ چونکہ یہ تیل زیادہ بھاری  اور  پراسیسنگ کے لحاظ سے مشکل ہے، اس لیے عالمی منڈی میں یہ دوسرے ممالک کے خام تیل کے مقابلے میں کہیں کم قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔

تیل کے معیار کے مسائل کے ساتھ ساتھ حکومتی بدانتظامی نے بھی حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ سرکاری ملکیت کی آئل کمپنی پیٹرولیوس ڈی وینزویلا (PDVSA) پورے تیل کے شعبے کو کنٹرول کرتی ہے۔ تاہم پابندیوں اور ناموزوں پالیسیوں کے باعث انفرااسٹرکچر میں برسوں کی کم سرمایہ کاری کی وجہ سے مشینری پرانی ہو چکی ہے اور پیداوار کی صلاحیت میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی عدم استحکام اور بدعنوانی نے مسائل کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے۔

اسی وجہ سے وینزویلا نے 2023 میں صرف 4.05 ارب ڈالر مالیت کا تیل برآمد کیا۔ اس کے مقابلے میں سعودی عرب نے 181 ارب ڈالر اور امریکا نے 125 ارب ڈالر کا تیل برآمد کیا۔ یوں بے پناہ ذخائر کے باوجود ان وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال نہ کر پانا ہی وینزویلا کی غربت اور معاشی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر کے باوجود وینزویلا غریب کیوں ہے؟

فوٹو: فائل

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا اپنے تیل کے ذخائر کا صرف 1 فیصد انتہائی دشواری سے نکال پاتا ہے۔ حالیہ امریکی ناکہ بندی  جس کے تحت پابندیوں کا شکار تیل بردار جہازوں کو روکا گیا، نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

امریکا نے وینزویلا پر تیل کی فروخت پر بھی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا یہ پابندی ہٹائی جائے گی یا نہیں۔گزشتہ روز  پریس بریفنگ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم وینزویلا میں  بڑی امریکی تیل کمپنیوں کو بھیجیں گے، جو اربوں ڈالر خرچ کریں گی، بری طرح تباہ شدہ تیل کے بنیادی ڈھانچے کو ٹھیک کریں گی اور ملک کے لیے آمدنی پیدا کریں گی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *