یونان کشتی حادثے کے مرکزی ملزم ثاقب ججہ کے خلاف درخواست گزار اپنے بیان سے پھرگئے اور پہچاننے سے انکار کردیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے یونان کشتی حادثہ کیس کے مرکزی ملزم ثاقب ججہ کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔
مدعیوں نے بیان دیا کہ ثاقب ججہ ان کا ملزم نہیں، وفاقی حکومت کے وکیل بتایا کہ ان مدعیوں کی درخواست پر ہی ایف آئی اے نےکارروائی کرکے اسے پکڑا۔
چیف جسٹس نے مدعیوں سےکہا کہ آپ ایک ظالم کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، انسانی زندگی کی کوئی قیمت ہے یا نہیں ؟ میڈیا شور مچاتا ہے کہ ادارے کام نہیں کرتے، آپ نے خود درخواست دی اور اب کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا ملزم نہیں ۔
مدعی نے بیان دیا کہ قرآن پر حلف دیتا ہوں کہ کوئی درخواست نہیں دی تھی، چیف جسٹس نےریمارکس دیے کہ قرآن بہت بڑا ہے ہم اس کا بوجھ نہیں اٹھاسکتے۔
عدالت نے ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ کیا ان کا بچہ بچ گیا تھا، وکیل وفاقی حکومت نے بتایا کہ 3 مدعیوں کے بچے یونان حادثے میں بچ گئے تھے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کا بچہ بچ گیا تھا، ظالم کو بچانے کی کوشش نہ کریں جو کہتے ہیں یہ سادہ لوگ ہیں یہ سادہ لوگ نہیں، آپ عدالت میں سچ نہیں بول رہے، یہ ملک ایسے ٹھیک نہیں ہوگا آگے آنا پڑے گا۔
عدالت نے تمام مدعیوں کو 28جنوری کو 12بجےاسپیشل سینٹرل کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا اور ہدایت کی ان سب کے بیانات کی تصدیق کریں، ان کے انگوٹھوں کے نشانات کا فرانزک کرائیں، اگر ثابت ہوگیا کہ مدعیوں نے ہی درخواست دی تھی تو پھر جھوٹا بیان دینے پر ان کے خلاف بھی کارروائی کریں گے۔
عدالت نے ملزم کی عبوری ضمانت میں 12 فروری تک توسیع کردی۔
واضح رہے کہ لیبیاسےاٹلی جانے والی کشتی کو جون 2023 میں حادثہ پیش آیا تھا جس میں 500کے قریب افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں سے 300کےقریب پاکستانی تھے۔


























Leave a Reply