ایک اور میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان یا پاکستانی شہری نئی دستاویز میں زیادہ نظر نہیں آئے تاہم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام ضرور موجود ہیں۔
ایپسٹین اور بل گیٹس کی ٹیم کے درمیان بعض ای میلز میں پولیو پروگرام پر بات ہوئی ہے جن میں سے چند میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے سابق مشیر بورس نکولیک بھی ہیں۔
ایک ای میل میں ایک شخص جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی وہ ایپسٹین کو آگاہ کرتا ہے کہ پاکستان اور نائجیریا میں پولیو ٹیموں پر حملے کیے جارہے ہیں تو ایپسٹین اس ضمن میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟
ایپسٹین اور جے پی مارگن کے ایگزیکٹو جس اسٹینلے کے درمیان سن 2010 کو بھیجی گئی ای میل میں کچھ اہم غیرملکی شخصیات کی ایپسٹین سے ملاقات کا وعدہ کیا گیا ہے، ان شخصیات میں اس دور کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نام بھی آتا ہے۔
نکولیک اور ایپسٹین کے درمیان ایک ای میل میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بل گیٹس پاکستانی میڈیا سے خوش نہیں تھے کہ اس نے عمران خان سے انکی ٹیلے فون پر بات کو رپورٹ کردیا ہےکیونکہ بل گیٹس کو خدشہ تھا کہ کہیں اس سے پولیو مہم پر اثر نہ پڑ جائے۔
ایک اور ای میل میں جو کہ ستمبر سن 2018 سے متعلق ہے اس میں گولڈمین سیکس کے جیڈ زیٹلین، ایپسٹین کو یہ لکھتے ہیں کہ چین کی جانب سے سہاروں کے باوجود عمران خان کی قیادت سلوموشن میں گاڑی کو حادثہ کے مترادف ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایک ای میل میں جیفری ایپسٹین نےدعویٰ کیا تھا کہ اسے پاکستانی شلوار کرتا بہت پسند ہے۔
ایپسٹین نے پوچھا تھا کہ اس پینٹ کو کیا کہتے ہیں جس پر اسے جواب دیا گیا تھا کہ پینٹ کو شلوار اور قمیض کو کرتا کہتے ہیں۔
یہ لباس بھارتی پارٹیوں میں بھی پہنا جاسکتا ہے جس پر ایپسٹین نے کہا تھا کہ وہ قیمت ادا کرکے 5 مزید جوڑے خریدنا پسند کرے گا مگر شرٹ کا سائز تھوڑا بڑا ہونا چاہیے۔
ای میل میں ایپسٹین کو بتایا جاتا ہے کہ 5 پاکستانی ملبوسات کی شپمنٹ جلد پہنچ رہی ہے۔

























Leave a Reply