آنتوں کا کینسر دنیا میں سرطان کی تیسری سب سے عام قسم ہے اور دنیا بھر میں اس کے کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
درحقیقت دنیا بھر میں جوان افراد (50 سال سے کم عمر) میں آنتوں کے کینسر کے کیسز کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دسمبر 2024 میں جرنل Lancet Oncology میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ یورپ، شمالی افریقا، ایشیا اور اوشیانا سمیت دنیا بھر میں جوان افراد میں آنتوں کے کینسر عام ہو رہا ہے۔
محققین ابھی یہ مکمل طور پر نہیں سمجھ سکے کہ آنتوں کا کینسر دنیا بھر میں تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے۔
مگر ان کا ماننا ہے کہ جنک فوڈ کا استعمال، زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے اور موٹاپا ممکنہ طور پر کینسر کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرنے والے عناصر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جوان افراد میں کینسر کے پھیلاؤ کا رجحان دنیا بھر میں نظر آتا ہے۔
عام طور پر کولہوں سے خون کا اخراج اس کی عام ترین علامت ہے مگر دیگر چند علامات بھی ہیں جن پر بیشتر افراد توجہ مرکوز نہیں کرتے۔
اس حوالے سے امریکن کالج آف سرجنز کی جانب سے گائیڈلائنز جاری کی گئی ہیں جن میں کینسر کی اس قسم کی علامات کے بارے میں بتایا گیا۔
ویسے تو کینسر کی یہ قسم اب بھی معمر افراد میں زیادہ عام ہوتی ہے مگر جوان افراد میں اس کے کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران آنتوں کے کینسر کے ہر 5 میں سے ایک کیس کی عشخیص 54 سال سے کم عمر افراد میں ہوئی۔
تو ان ابتدائی علامات کے بارے میں جانیں جن کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
آنتوں کی سرگرمیوں میں تبدیلیوں کا تسلسل برقرار رہنا
قبض یا ہیضے کے ساتھ فضلے کے اخراج کی عادات میں نمایاں تبدیلیاں اس کینسر کی جانب اشارہ ہوسکتی ہیں۔
فضلے کے اخراج کے باوجود پیٹ خالی نہ ہونے کا احساس ہوسکتا ہے۔
فضلے میں خون کا اخراج
اگر فضلے میں خون نظر آرہا ہے اور ایسا مسلسل ہو رہا ہے تو یہ آنتوں کے کینسر کی اہم علامت ثابت ہوسکتی ہے۔
2025 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ آنتوں کے کینسر کے 50 سال سے کم عمر مریضوں میں خون کا اخراج عام ترین علامت ہوتی ہے۔
فضلے کی عجیب رنگت یا ساخت میں تبدیلیاں
اگر فضلے کی رنگت بہت زیادہ گہری یا سیاہ ہو تو یہ بھی کسی مسئلے کی نشانی ہوسکتی ہے۔
ایسا جسم کے اندر جریان خون کے باعث ہوسکتا ہے جس کے دوران خون آنتوں میں جمع ہوکر فضلے کی رنگت کو تبدیل کر دیتا ہے۔
کئی بار ایسا معدے کے السر کی وجہ سے بھی ہوتا ہے مگر یہ آنتوں کے کینسر کی بھی ایک علامت ہے۔
اسی طرح اگر فضلے کی ساخت اچانک تبدیل ہو جائے تو یہ بھی اس موذی مرض کی نشانی ہوسکتی ہے مگر یہ بہت کم مریضوں میں دیکھنے میں آتی ہے۔
عمومی صحت میں تبدیلیاں
جسمانی وزن میں بغیر کسی وجہ کے کمی آنا، ہر وقت تھکاوٹ، کمزوری، کھانے کی اشتہا ختم ہونا، متلی یا قے وغیرہ بھی نظام ہاضمہ کے مسائل کا عندیہ دینے والی نشانیاں ہیں اور مسلسل ان کا سامنا ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
خاندان میں تاریخ
اگر خاندان میں کسی کو آنتوں کے کینسر کا سامنا ہوچکا ہے تو آپ بھی اس کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آنتوں کے کینسر کی تشخیص جلد ہو جائے تو اس کا علاج آسانی سے ممکن ہوتا ہے ۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

























Leave a Reply