بہار آتی ہے تو اپنے ساتھ فیض میلہ بھی لاتی ہے، جس میں فیض احمد فیضؔ کے چاہنے والے شاعر، ادیب، فنکار، طلبہ وطالبات، وکیل، مزدور اور سیاسی کارکن اپنے اپنے انداز میں فیض صاحب کو یاد کرتے ہیں۔
اس برس الحمراء ہال لاہور میں فیض میلہ مجھے اُس دورِ ستم میں واپس لے گیا جب میں نے پہلی دفعہ فیض کے دیوانوں کا رقص دیکھا، فروری 1986 میں پہلا فیض میلہ بھی اسی الحمرا ہال لاہور میں منعقد ہوا تھا، اُس وقت میں گورنمنٹ کالج لاہور (اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی) کا طالبعلم تھا۔
یہ فیض صاحب کی 1984 میں وفات کے بعد انکی یاد میں منعقد کیا جانیوالا پہلا ادبی و ثقافتی میلہ تھ، پلک جھپکتے ہی چار دہائیاں بیت گئیں، ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ جب اقبال بانو نے الحمرا ہال میں فیض صاحب کی نظم ’’ہم دیکھیں گے‘‘ گانی شروع کی تو پورا ہال جھومنے لگا تھا۔
ظہیر کاشمیری، منو بھائی اور جاوید شاہین سمیت بہت سے شاعروں اور ادیبوں نے اسٹیج کے سامنے رقص شروع کر دیا اور جب اقبال بانو نے کہا کہ ’’سب تخت گرائے جائینگے‘‘ تو پورا ہال اس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاءالحق کیخلاف نعروں سے گونج اُٹھا۔
میں اقبال بانو کی آواز میں فیض صاحب کی یہ نظم آج بھی جب سنتا ہوں تو فروری 1986 میں جا پہنچتا ہوں، اس مرتبہ فیض میلے میں اُنکے کئی چاہنے والوں کی باتیں سُن کر مجھے محسوس ہوا کہ ہم آج بھی 1986 سے آگے نہیں بڑھے، میں سوچ رہا تھا کہ اگر آج فیض صاحب زندہ ہوتے تو اس دور کے بارے میں کیسی نظمیں لکھتے ؟ یہ سوال بھی ذہن پر ہتھوڑے برسا رہا تھا کہ فیض صاحب زندہ ہوتے تو کسی جیل میں ہوتے یا جلا وطن ہوتے ؟
مجھے دوسرا فیض میلہ بھی یاد آ رہا تھا جو 1987 میں باغ جناح کے اوپن ائیر تھیٹر میں منعقد ہوا، مشاعرے کے دوران جب احمد ندیم قاسمی صاحب کو کلام سنانے کی دعوت دی گئی تو بہت سے نوجوانوں نے اُن کیخلاف نعرے بازی شروع کردی جس پر فیض صاحب کی اہلیہ ایلس فیض بہت ناراض ہوئیں-بعد میں پتہ چلا کہ ایک دفعہ احمد ندیم قاسمی اور فیض صاحب کے درمیان علامہ اقبال پر اختلاف ہوا تھا۔
احمد ندیم قاسمی انجمن ترقی پسند مصنفین کو علامہ اقبال کیخلاف استعمال کرنا چاہتے تھے، فیض صاحب اس حق میں نہ تھے انہوں نے علامہ اقبال کا بھرپور دفاع کیا اور انجمن سے علیحدہ ہو گئے، اس پرانے اختلاف کی وجہ سے کچھ بزرگوں نے نوجوانوں کو احمد ندیم قاسمی کیخلاف نعرے بازی پر اُکسایا۔
ان بزرگوں کو غصہ یہ تھا کہ قاسمی صاحب نے جنرل ضیا سے ستارہ امتیاز کیوں وصول کیا؟ ایلس فیض نے قاسمی صاحب کیخلاف نعرے لگانے والوں کو خوب ڈانٹا اور کہا کہ فیض صاحب اپنے مخالفین اور ناقدین کیساتھ کبھی بدتمیزی نہیں کرتے تھےاور قاسمی صاحب کی بہت عزت کرتے تھے۔
میں سوچ رہا تھا کہ فیض صاحب آج زندہ ہوتے تو بنگلا دیش کے حالیہ انتخابی نتائج پر اُن کا کیا ردِعمل ہوتا ؟ مجھے اُنکی نظم ’ڈھاکہ سے واپسی پر ‘ یاد آ رہی تھی، یہ نظم انہوں نے 1974ء میں ڈھاکہ سے واپس آ تے ہوئے ہوائی جہاز میں لکھی تھی، وہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ بنگلا دیش جانیوالے سرکاری وفد میں شامل تھے۔
بنگلادیش میں اُنہیں بڑی عزت دی جاتی تھی کیونکہ انہوں نے 1971 کےاس فوجی آپریشن کی مخالفت کی تھی جس کا نتیجہ بنگلادیش کی صورت میں نکلا تھا، فیض صاحب نے اس آپریشن پر کہا تھا
سجے تو کیسے سجے قتلِ عام کا میلہ
کسے لبھائے گا، میرے لہو کا واویلا
ذوالفقار علی بھٹو چاہتے تھے کہ فیض احمد فیضؔ بنگلادیش میں پاکستان کے سفیر بن کر جائیں اور دونوں ملکوں کو قریب لائیں، فیض صاحب اس کام کیلئے تیار تھے لیکن بھٹو اور شیخ مجیب الرحمان میں غلط فہمیوں کی وجہ سے یہ کام آگےنہ بڑھ سکا ۔
ڈھاکہ سے واپس آتے ہوئے اسوقت کے وزیر ثقافت ملک محمد جعفر نے فیض صاحب سے فرمائش کی کہ اپنے تاثرات کو شاعری میں بیان کریں۔ ہوائی جہاز میں بیٹھے بیٹھے فیض صاحب نے یہ نظم کہہ دی تھی۔
ہم کے ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظرمیں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
2026 کے فیض میلے میں بار بار مجھے خیال آ رہا تھا کہ شائد اتنی برساتوں کے بعد خون کے بہت سے دھبے دھل گئے جنہوں نے ہمارے دامن کو داغ داغ کر دیا تھا، اگر فیض صاحب آج زندہ ہوتے تو خون کے کئی تازہ دھبوں کے بارے میں بھی خاموش نہ رہتے اور پھر سے غدار قرار پاتے۔
مجھے مارچ 2013 یاد آرہا تھا جب میں نے عاصمہ جہانگیر ، سلیمہ ہاشمی، حاصل بزنجو اور طاہرہ حبیب جالب سمیت کچھ دیگر پاکستانیوں کیساتھ ڈھاکہ جانے کا فیصلہ کیا جہاں میں نے اپنے والد وارث میر، عاصمہ جہانگیر نے اپنے والد ملک غلام جیلانی ، سلیمہ ہاشمی نے اپنے والد فیض احمد فیض ، حاصل بزنجو نے اپنے والد غوث بخش بزنجو اور طاہرہ نے اپنے والد حبیب جالب کیلئے فرینڈز آف بنگلادیش ایوارڈ وصول کیا اور ہم سب غدار قرار پائے۔
ڈھاکہ سے واپسی پر ہمارا خیال تھا کہ حسینہ واجد ان ایوارڈز کے ذریعے خون کے دھبے دھونے کی کوشش کر رہی ہے لیکن کچھ عرصے کے بعد انکی حکومت نے بھارتی دباؤ پر بنگلادیش کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان کے دورے پر جانے سے روک دیا ۔ جواب میں پاکستانی ٹیم کا دورہ بنگلا دیش بھی منسوخ ہو گیا جـس پر میں نے بنگلادیشی حکومت سے سخت احتجاج کیا تھا ۔
فیض میلے میں مجھے بار بار خیال آ رہا تھا کہ اس سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان نے جس بھر پور انداز میں بھارت کیخلاف بنگلادیش کا ساتھ دیا اور آئی سی سی کو بنگلادیش کے ساتھ کی گئی زیادتی کا ازالہ کرنے پر مجبور کیا اس سے 1971 ءمیں بہائے جانیوالے خون کے کچھ دھبے بھی دھوئے گئے ۔
فیض صاحب زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے کیونکہ وہ خود بھی کرکٹ کے پرستار تھے، ایک دفعہ انہوں نے احمد فراز اور افتخار عارف کو انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں بچپن میں کرکٹر بننے کا بہت شوق تھا لیکن افسوس کہ وہ کرکٹر نہ بن سکے، فیض صاحب ایک کثیر الجہت انسان تھے، وہ شاعر بھی تھے ، صحافی بھی تھے اور انہوں نے ایک فلم کی کہانی بھی لکھی تھی جس کا نام تھا ’’ جاگو ہوا سویرا ‘‘ یہ مشرقی پاکستان یعنی بنگلادیش میں بنائی جانیوالی پہلی اردو فلم تھی جس کی تمام شوٹنگ دریائے میگھنا کے کنارے مچھیروں کے ایک گاؤں میں ہوئی تھی ۔
یہ فلم 1958 ء میں مکمل ہوئی، فلم مکمل ہوتے ہی پاکستان میں جنرل ایوب خان کا مارشل لا آ گیا اور فیض صاحب گرفتار ہو گئے، پاکستان میں اس فلم پر پابندی لگا دی گئی حالانکہ یہ فلم مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کو قریب لا سکتی تھی، اس فلم کو ماسکو سمیت کئی عالمی فلم میلوں میں ایوارڈ ملے لیکن فیض صاحب بار بار ملک دشمن اور غدار قرار دیکر گرفتارکیے جاتے رہے۔
انہیں غدار قرار دینے والوں نے ہی یہ ملک توڑ دیا، فیض صاحب نے قید تنہائی بھی دیکھی اور انہیں ہتھکڑی پہنا کر بازاروں میں بھی گھمایا گیا، آج بھی کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ غداری کے الزامات ، قید تنہائی اور ہتھکڑیاں ریاستوں کو مضبوط نہیں کمزور کرتی ہیں، فیض کا کلام آج بھی تازہ تازہ لگتا ہے کیونکہ اس ملک کے حالات میں تبدیلی نہیں آئی، اسی لیے فیض میلے میں آج بھی جب تخت گرانے اور تاج اُچھالنےکا ذکر ہوتا ہے تو نوجوانوں میں وہی جذبہ نظر آتا ہے جو 1986 ءکے پہلے فیض ؔمیلے میں مجھے نظر آیا تھا۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
























Leave a Reply