بھارتی کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے کہا ہےکہ بھارت نے ایران جیسے اتحادی کو نظر انداز کرکے اسرائیل کی حمایت پر سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا۔
بھارتی جریدے میں شائع مضمون میں سونیا گاندھی نے لکھا کہ بھارتی حکومت نے ایران جیسے دیرینہ اتحادی کو نظر انداز کرکے اور اسرائیل کی حمایت کر کے بھارت کی سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا ہے۔
اُنہوں نے اس امر کو اجاگر کیا کہ بھارت تاریخی طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان نہایت محتاط توازن قائم رکھتا آیا ہے لیکن اب مودی نے اسے سیاسی نمائش کی نذر کردیا ہے۔
سونیا گاندھی کے مطابق اس طرزِ عمل نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے ہیں اور حکومت کو اسرائیل نواز مفادات کا محض تابع دار بنا کر پیش کیا ہے اور یہ کہ مودی حکومت جسے سفارت کاری کہتی ہے، وہ دراصل بحران کے لمحات میں ذمہ داری سے دستبرداری ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ یہ اخلاقی بزدلی ہے جس سے عالمی فورمز پر بھارت کی پوزیشن کمزور دکھائی دیتی ہے۔
سونیا گاندھی کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر بھارت کا مدھم ردِعمل اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ نئی دہلی اپنی آزاد خارجہ پالیسی کے دعوے سے دستبردار ہوگئی ہے۔

























Leave a Reply