بھارتی حکومت نے مسلم طلبا کو زیادہ داخلے ملنے پر میڈیکل کالج بند کر دیا


مقبوضہ کشمیر: بھارتی حکومت نے مسلم طلبا کو زیادہ داخلے ملنے پر میڈیکل کالج بند کر دیا

فوٹو: فائل 

بھارتی حکومت تعلیم میں بھی سیاست لے آئی، مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم طلبا کو زیادہ داخلے ملنے پر میڈیکل کالج بند کر دیا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے شری ماتا وشنو دیوی میڈیکل کالج میں داخلوں نے ایک بار پھر ہندو انتہا پسندوں کی مسلم دشمنی بے نقاب کر دی۔

شری ماتا وشنو دیوی میڈیکل کالج  میں نومبر میں شروع ہونے والے5 سالہ ایم بی بی ایس پروگرام کے پہلے بیچ میں مقبوضہ کشمیر کے حصے کی 50 سیٹوں میں سے 42 پر مسلمان طلبا کو میرٹ پر داخلہ ملا جبکہ 7 ہندو اور ایک سکھ طالبعلم کا داخلہ ہوا۔

جب مقامی ہندو تنظیموں کو کالج کے پہلے بیچ میں مسلم طلبا کی اکثریت کا علم ہوا تو انہوں نے احتجاج شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ مسلم طلبا کے داخلے منسوخ کیے جائیں۔

ان کا مؤقف تھا کہ چونکہ یہ کالج ماتا ویشنو دیوی مندر سے بڑی حد تک مالی معاونت حاصل کرتا ہے، اس لیے مسلم طلبا کا ‘وہاں کوئی حق نہیں’۔

ہفتوں تک کالج کے باہر روزانہ مظاہرے ہوتے رہے اور نعرے بازی جاری رہی۔

اسی دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے بعض اراکینِ اسمبلی جن پر 2014 سے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم مخالف پالیسیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں نے کشمیر کے گورنر کو درخواستیں دیں کہ کالج میں داخلے صرف ہندو طلبا کے لیے مختص کیے جائیں۔

بعد ازاں مطالبات بڑھتے بڑھتے کالج کی مکمل بندش تک جا پہنچے۔

6 جنوری کو قومی میڈیکل کمیشن نے اعلان کیا کہ کالج نے معیاری تقاضے پورے نہیں کیے، اس لیے اس کا لائسنس منسوخ کیا جا رہا ہے۔

کمیشن کے مطابق کالج میں تدریسی عملہ، او پی ڈی میں مریضوں کی تعداد، لائبریری اور آپریشن تھیٹرز میں سنگین خامیاں تھیں۔تاہم بیشتر طلبا نے ان الزامات کو مسترد کیا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *