ڈھاکا: بنگلادیش میں عام انتخابات کے ساتھ کرائے جانے والے قومی ریفرنڈم میں 61 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں۔
بنگلادیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں پولنگ کو عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
یہ انتخابات طلبا کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک کے 18 ماہ بعد ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں 2 دہائیوں پر محیط شیخ حسینہ کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔
بنگلادیش میں قومی انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا ہے۔
غیرسرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق 61 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالا ہے جبکہ 39 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے خلاف ووٹ ڈالا ہے۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے جواب میں عوام کو ہاں یا نہیں کا انتخاب کرنا تھا، ریفرنڈم سے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائےگا۔
ریفرنڈم میں جولائی نیشنل چارٹر میں وسیع آئینی اصلاحات کی تجویز مانگی گئی ہے۔
جولائی نیشنل چارٹر‘ دراصل جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے مطالبات کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہے۔ اس کا مقصد ملک میں گڈ گورننس، جمہوریت اور سماجی انصاف کو مضبوط بنانا اور اقتدار کو کسی ایک فرد یا ادارے تک محدود ہونے سے روکنا ہے۔
یہ مسودہ ڈاکٹر یونس کے قائم کردہ ’نیشنل کنسنسس کمیشن‘ نے بڑی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا، تاہم عوامی لیگ اس عمل میں شامل نہیں تھی۔
ریفرنڈم کے بیلٹ پیپر پر عوام سے ایک سوال پوچھا گیا جس کے جواب میں ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ کا انتخاب کرنا تھا۔ اس کے ذریعے چار بڑی آئینی ترامیم سمیت تقریباً 30 اصلاحات پر عوامی رائے لی گئی۔
مجوزہ تبدیلیوں میں نئے آئینی اداروں کا قیام، پارلیمنٹ کو دو ایوانوں پر مشتمل بنانا اور ایوانِ بالا (سینیٹ) کی منظوری کے بغیر آئینی ترمیم نہ کرنے کی شرط شامل ہے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم کی مدت کے تعین اور صدر کے اختیارات میں اضافے کی تجاویز بھی چارٹر کا حصہ تھیں تاکہ طاقت کا ارتکاز روکا جا سکے۔


























Leave a Reply