بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ بنگلا دیش بدقسمتی سے جعل سازی میں ’عالمی چیمپئن‘ کے حوالے سے بدنام ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ جعلی دستاویزات کا وسیع پیمانے پر استعمال ہے اور اس سے ملک کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
ڈھاکا میں ڈیجیٹل ڈیوائس اینڈ انوویشن ایکسپو 2026 کا افتتاح کرتے ہوئے محمد یونس نے کہا کہ بیرونِ ملک ویزا مسترد ہونے کی ایک بڑی وجہ جعلی دستاویزات ہیں، جن میں جعلی تعلیمی اسناد بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے ایسے کیسز دیکھے ہیں جہاں لوگوں نے جعلی سرٹیفکیٹس کے ساتھ ویزا کے لیے درخواست دی۔ ایک خاتون نے خود کو ڈاکٹر ظاہر کر کے درخواست دی، لیکن اس کے تمام کاغذات جعلی نکلے‘۔
محمد یونس نے مزید کہا کہ ایسے طریقوں کی وجہ سے بعض ممالک نے بنگلا دیشی شہریوں کو داخلے سے روک دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ دھوکہ دہی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کی جا رہی ہیں، مگر غلط مقاصد کے لیے‘۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی کو فریب دہی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
چیف ایڈوائزر نے کہا کہ ’اگر ہم ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں دیانت داری اور انصاف کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہم نہیں چاہتے کہ یہ ملک جعل سازی کی فیکٹری بن جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر سر بلند ہو کر چلیں‘۔


























Leave a Reply