لاہور: وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارت ہے۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا امن کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا،بلوچستان کا امن اور ترقی حکومت کی ترجیح ہے، بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ محب وطن پاکستانی ہیں، لیکن جب تک یہ نشاندہی نہیں ہوگی کہ بلوچستان کا بحران ہےکیا، تب تک یہ حل کیسےہوگا؟ ماضی میں جو ہو چکا ہے اسے بدلا نہیں جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارت ہے، اس وقت بلوچستان کے 2 بحران ہیں، حل کرے کے طریقہ کار الگ الگ ہیں، ہم غلطی کر رہے ہیں کہ دونوں بحرانوں کو ایک ہی طرح حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رانا ثنااللہ نے یہ بھی کہا کہ بچوں اور فیملیوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر گولیاں ماری جاتی ہیں، کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ کسی نے کہا کہ یہ بلوچستان کے لوگ کراتے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے، فیصل آباد میں بلوچستان کے لوگ اربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں، کوئی ایک مثال دے دیں کہ کسی نے پنجاب میں کسی بلوچ کو برا بھلا کہا ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ کیا جعفر ایکسپریس کے واقعے کے روز بھارتی میڈیا پر جشن کا سماں نہیں تھا ؟ اگر ان لوگوں کو نجات دہندہ کہا جاتا ہے توہمیں افسوس ہے، کیا نجات دہندہ پلوں کو اڑاتے ہیں کہ لوگ اسپتال نہ جاسکیں، پوری انسانی تاریخ میں کوئی نجات دہندہ اس طرح کا ہوا ہے؟ ایسے نجات دہندہ کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔
جبری گمشدگیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا میرا خیال ہے کہ جبری گمشدگیوں اور تشدد کی تاریخ ملتی جلتی ہے، یہ دونوں مسئلے شروع بھی اکٹھے ہوئے اور ختم بھی اکٹھے ہی ہوں گے۔
رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھادہشت گردی ختم ہوگی تو یہ چیزیں بھی ختم ہوں گی، یہ بنیان مرصوص کی جیت ہے جس پر بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔


























Leave a Reply