ہماری اشرافیہ اور ہائبرڈ نظام کے حامیوں نے بڑی کوشش کی کہ ہائبرڈنظام کو ’جمہوریت کا لبادہ‘ پہنا کر قبول کرلیا جائے مگر جو اس’نظام‘ کی پیداوار تھے انہوں نے ہی اس کو چیلنج کیا اور نتیجے میں معتوب بھی قرار پائے سزا یافتہ بھی ٹھہرے، نا اہل بھی ہوئے مگر ہر گزرتے دِن کے ساتھ ساتھ اس میں جو تھوڑا بہت حصہ سیاستدانوں کے نصیب میں آیا وہ بھی کم سے کم ہوتا جارہا ہے۔
لہٰذا اب نہ الیکشن کی ساکھ رہی ہے نہ پارلیمنٹ کی، نہ آزاد عدلیہ (خیر پہلے بھی کیا آزادی رہی) نہ غیر جانبدار میڈیا ۔حیرت ہوتی ہے تو اُن پر جو اِس کو ’جمہوریت‘ کا نام دیتے ہیں۔ ابھی ہم ا س سے بہت دور ہیں بس دل کے بہلانے کو یہ کہہ کر اس کا دفاع کرتے ہیں کہ بدترین جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے کیوں بھائی بہترین جمہوریت کیوں نا آئے جہاں پہلا احتساب حکمرانوں کا ہوتا ہے۔ جہاں لیڈر عوام کی سواری میں سفر کرتا ہے جہاں انصاف سب کیلئے برابری کی بنیاد پر ہوتا ہے اور صحافت معاشرہ کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ شاید ان باتوں کو اب ’آئیڈیل‘ صورتحال کہہ کر نام نہاد ’حقیقت پسندی‘ کی طرف آنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ میں آج بھی اس نظریہ کا قائل ہوں کہ یا تو’جمہوریت‘ ہوتی ہے یا نہیں ہوتی ۔باقی سارے تجربات کر کے دیکھ لئے ایک بار ’اصل جمہوریت‘ کا تجربہ بھی کرلیں۔
ہمارے بہت سے دوستوں کا یہ خیال ہے کہ یہ ’ہائبرڈ نظام‘ 2008 کے بعد لایا گیا جبکہ یہ دراصل اس مزاج کا عکاس ہے جو جولائی1977 کے بعد’جمہوریت کو کنٹرول‘ کرنے کے لئے آمرانہ سوچ نے نافذ کی اور آئین میں ایک ایسی بنیادی تبدیلی کی گئی جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کمزور کردی گئی اور طاقت کا سرچشمہ ’ایوانِ صدر‘ کو بنادیا گیا (B) 2-58کی تلوار لٹکا کر جنرل ضیاءالحق نے ملک میں مارشل لا لگایا تو اُن کا خیال تھا کہ اتنی بڑی پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کے بعد ’بھٹو کا چیپٹر‘ بند ہوگیا ہے اور اُس وقت کی اپوزیشن با آسانی الیکشن جیت جائے گی اور وہ بحیثیت صدر آنے والی پی این اے کی حکومت کے ساتھ چلتے رہیں گے۔ مگر جلد ہی انہیں احساس ہوگیا کہ بھٹو کی جڑیں مضبوط ہیں اور کسی بھی آزادانہ الیکشن میں اس کی جماعت دو تہائی اکثریت لے جاسکتی ہے لہٰذا الیکشن ’پہلے احتساب پھر انتخاب‘ کا ڈھونگ رچاکر ملتوی کردیئے گئے۔ بات اس سے بھی نہ بنی تو اس کو راستے سے ہی ہٹادیا گیا خیال تھا کہ پھانسی کے بعد معاملات قابو میں آجائیں گے مگر یہ تجربہ بھی ناکام رہا۔
1985ء کے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات دراصل ’ہائبرڈ نظام‘ کی ابتدا تھی جس کے ذریعے سب سے پہلے آئین میں کچھ بنیادی تبدیلیاں کی گئیں جن میں (58-2b) کو شامل کیا گیا اور پہلی بار کسی پارلیمانی نظام میں صدر کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ وزیرِاعظم اور پارلیمنٹ کو گھر بھیج سکتاہے۔ یہ ’حادثاتی سیاستدانوں‘ کی ایک نئی پود کو سامنے لانے کی بھی ابتدا تھی۔ ایسا ہی ایک تجربہ1962ءمیںبنیادی جمہوریت کے نام پر کیا گیا تھا۔مگر اب اسکا کیا کریں جب 1985ءمیں وجود میں آنے والی اسمبلی کے قائدِ ایوان وزیراعظم محمد خان جو نیجو اپنی پہلی تقریر میں یہ کہہ گئے ،’’مارشل لا اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے‘‘ اس ’ہائبرڈ نظام‘ کا دوسرا تجربہ میاں محمد نواز شریف تھے ایک اور حادثاتی سیاسی خاندان جس کا دور دور تک سیاست سے تعلق نہیں تھامگر چونکہ ’مقبولیت‘ کو قابو کرنا تھا لہٰذا اُن کو ’سیاسی لبادہ‘ پہنا دیا گیا۔
اب اس کا کیا کریں کہ خود میاں صاحب چند سا ل بعد ہی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھ بیٹھے اور کہا ’’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘‘۔ بھٹو کی بیٹی بے نظیر کو میاں صاحب کے خلاف اور اُن کو بی بی کے خلاف خوب استعمال کیا گیا اور آخر میں دونوں سے نجات کے لئے ایک نیا ’سیاسی تجربہ‘ کیا گیا اور دو خاندانوں کی اصطلاح استعمال کر کے ’تیسرے آپشن‘ کی خبریں مارکیٹ میں لائی گئیں اور دونوں کی کرپشن کی کہانیاں اخبارات کی زینت بننا شروع ہوگئیں۔ میاں صاحب نے 58-2bختم کیا تو 12؍اکتوبر1999 ہوگیا۔
میاں صاحب دو تہائی اکثریت کے زعم میں ایک کے بعد ایک غلط فیصلہ کرتے گئے یہ جانیں بغیر کہ ان کو لانے والے گھر بھی بھیج سکتے ہیں۔عمران کا تجربہ اس لحاظ سے منفرد تھا کہ میاں صاحب کی طرح وہ عوام کے لئے اجنبی نہیں تھا بلکہ سیاست میں آنے سے پہلے ہی ’ہیرو‘ تھا کرکٹ کی دنیا کا۔ مگر شاید لانے والے اس کے ’مزاج‘ کا صحیح اندازہ نہ کرسکے۔ آہستہ آہستہ کرکٹ کی مقبولیت سیاسی مقبولیت میں تبدیل ہوگئی،اشرافیہ کو پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب اس نے 2002 میں الیکشن کے بعد جنرل مشرف سے تعلق ختم کردیا۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بڑا سیاسی خلاپیدا ہوا اور اس وقت کی مقتدرہ نے ایک بار پھر عمران کی حمایت شروع کی اور فیصلہ ہوا کہ ’زرداری شریف ‘ کے مقابلے میں عمران کی حمایت کی جائے۔ اب عمران اپنی مقبولیت خود بھی بنانے میں کامیاب ہوچکا تھا پاکستان کے نوجوانوں کی اکثریت کے ساتھ اس کو ان کی بھی حمایت ملی جو مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی سے مایوس ہوگئےتھے۔
2013ء میں پہلی بار کے پی میں حکومت بنی جو آجتک قائم ہے۔ اور 2018 ءمیں پاکستان تحریکِ انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت بن گئی اور شاید یہی ’مقبولیت‘ اسکے اور مقتدرہ کے درمیان خلیج کا باعث بنی کیونکہ اب اُ س نے بھی ’ڈکٹیشن‘ لینا چھوڑ دیا نتیجے میں اپریل 2022 ءمیں وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ مگر پھر وہی ہوا جو 1977 ءمیں بھٹو کوہٹانے کے بعد ہوا۔ مارشل لا سے پہلے بھٹو بھی غیر مقبول ہوا تھا اور ’عدم اعتماد‘ کی تحریک سے پہلے عمران بھی۔
اب کوئی اس بات کو تسلیم کرے یا نہیں 8؍فروری، 2024ء کا الیکشن عوام کا ووٹ پر اعتماد کا عکاس تھا۔ اُسکے بعد ہم جس سیاسی جمود کا شکار رہے۔ اس سے اب تک باہر نہ آسکے۔ 1977ء کے مارشل لا سے آج تک ’ہائبرڈ‘ تجربات ہوتے رہے ہیں اب بھی وقت ہے ایک بار آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات اور اصل جمہوریت کا بھی تجربہ کرکے دیکھ لیں۔ ایک بار آزاد عدلیہ اور غیر جانبدار میڈیا کا تجربہ بھی کرلیں۔ اصل ’میں میثاقِ جمہوریت‘ تو یہی ہے ورنہ 75سال کی کہانی تو ہمارے سامنے ہے۔ حادثاتی سیاست سے باہر آئیں۔ الیکشن یا تو ہوتا ہے یا نہیں جمہوریت یا تو ہوتی ہے یا نہیں ہائبرڈسے وائبرڈ سے باہر آئیں۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply