فروری میں رمضان المبارک کے آغاز کے بعد، انٹرنیٹ پر ایک دعویٰ گردش کرنے لگا جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اور بحریہ یونیورسٹی نے طالبات اور طلبہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس مہینے کے دوران ایک ساتھ کھڑے نہ ہوں۔ دعوے کے مطابق، اگر کوئی بھی جوڑا ایک ساتھ کھڑا پایا گیا تو ان کا نکاح فوری طور پر پڑھا دیا جائے گا۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔ دونوں میں سے کسی بھی یونیورسٹی کی جانب سے ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
دعویٰ
20 فروری کی تاریخ کے حامل دو مبینہ دستاویزات انٹرنیٹ پر گردش کرنے لگیں، جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ اسلام آباد میں قائم نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اور بحریہ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔
دونوں خطوط، جو کہ طلبہ کے نام تھے، ایک ہی جیسے الفاظ پر مشتمل تھے: ”بذریعہ ہذا مطلع کیا جاتا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران جوڑوں (لڑکے اور لڑکی) کی صورت میں ایک ساتھ کھڑا ہونا سخت منع ہے۔ اگر کوئی بھی جوڑا ایک ساتھ کھڑا پایا گیا تو ان کا نکاح فوری طور پر پڑھا دیا جائے گا۔“
ان میں سے ایک نوٹیفیکیشن، جو مبینہ طور پر نمل اسلام آباد کی جانب سے جاری کیا گیا، اس پر پروفیسر ڈاکٹر ندیم طالب کے دستخط موجود ہیں جنہیں ڈائریکٹر اکیڈمکس کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ دوسرا نوٹیفیکیشن، جو بظاہر بحریہ یونیورسٹی کا معلوم ہوتا ہے، اس پر پروفیسر ڈاکٹر عائشہ رحمان کے دستخط ہیں اور انہیں بھی ڈائریکٹر اکیڈمکس کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔
ان دستاویزات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمزایکس (ٹوئٹر) اور فیس بک پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔
حقیقت
دونوں یونیورسٹیوں کے طلبہ اور انتظامی حکام نے رمضان کے دوران ایسی کوئی بھی ہدایات جاری کرنے کی تردید کی ہے۔
نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کے ڈائریکٹر اکیڈمکس ڈاکٹر ندیم طالب، جن کے دستخط اس مبینہ دستاویز پر موجود ہیں، انہوں نے جیو فیکٹ چیک کو بتایا کہ یہ خط من گھڑت ہے۔
انہوں نے جیو فیکٹ چیک کو میسجز کے ذریعے بتایاکہ ”یہ [نوٹس] میرے دفتر کی طرف سے جاری نہیں کیا گیا۔“
نمل (NUML) کے پبلک ریلیشنز آفیسر وقاص احمد اور شعبہ اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس کے سربراہ ڈاکٹر عبدالواحد نے بھی وائرل ہونے والے اس خط کو جعلی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
نمل (NUML) کے شعبہ نفسیات کے ایک طالب علم نے جیو فیکٹ چیک کو فون پر بتایا کہ طلبہ کو ایسی کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئی ہیں اور انہوں نے رائے دی کہ یہ خط بظاہر مزاح یا طنز (Satire) معلوم ہوتا ہے۔
اسلام آباد میں واقع بحریہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اکیڈمکس ڈاکٹر شہزاد خالد نے کہا کہ یہ دستاویز خود ساختہ اور من گھڑت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی میں عائشہ رحمان نامی کوئی فیکلٹی ممبر ڈائریکٹر اکیڈمکس کے طور پر خدمات انجام نہیں دے رہی ہیں، جن کا نام انٹرنیٹ پر موجود اس دستاویز میں ظاہر ہو رہا ہے۔
جبکہ بحریہ یونیورسٹی کے پبلک ریلیشنز اور ڈپٹی ڈائریکٹر مارکیٹنگ مجتبیٰ علی نے بھی ٹیلی فون پر تصدیق کی کہ یہ نوٹیفیکیشن جعلی ہے اور اسے مختلف یونیورسٹیوں کے نام تبدیل کر کے ایک میم (Meme) کے طور پر وائرل کیا گیا ہے۔
فیصلہ: نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز اور بحریہ یونیورسٹی سے منسوب وہ نوٹیفیکیشنز جعلی ہیں جن میں رمضان کے دوران طلبہ و طالبات پر پابندیاں عائد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ دونوں میں سے کسی بھی ادارے کی جانب سے ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔

























Leave a Reply