امریکی حکام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ وسیع آپشنز کی فہرست پیش کی گئی ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ آپشنز ان تجاویز سے کہیں آگے ہیں جن پر دو ہفتے قبل غور کیا جا رہا تھا۔
موجودہ آپشنز میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ امریکی افواج ایران کے اندر بعض مقامات پر براہِ راست کارروائیاں کریں۔ حکام کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے معاملے میں اسی طرزِ عمل پر غور کر رہے ہیں جو انہوں نے وینزویلا کے خلاف اپنایا تھا، جہاں امریکا نے نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے طویل عرصے تک ساحل کے قریب فوجی دباؤ برقرار رکھا تھا۔
تاہم ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے مشیر اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کی پیچیدگی اور خطرات وینزویلا کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوں گے کیونکہ ایران ایک کہیں زیادہ مضبوط اور منظم حریف ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ مختلف تجاویز پر غور جاری رکھے ہوئے ہیں جن پر یا تو بیک وقت یا کسی خاص امتزاج کے ساتھ عمل کیا جا سکتا ہے۔
ان میں سب سے خطرناک آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ امریکی کمانڈوز کو خفیہ طور پر ایران بھیجا جائے تاکہ ان جوہری تنصیبات کو تباہ یا شدید نقصان پہنچایا جائے جو گزشتہ جون میں امریکی بمباری سے متاثر نہیں ہوئیں۔
امریکی اخبار کے مطابق امریکی افواج طویل عرصے سے ایسے خصوصی مشنز کی مشقیں کرتی آرہی ہیں جن میں ایران جیسے ممالک کے اندر جا کر اہم اہداف کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
ایک اور امکان یہ بتایا گیا ہے کہ ایران کی اعلیٰ قیادت اور فوجی اہداف پر حملوں کا ایسا سلسلہ شروع کیا جائے جس سے ملک میں شدید انتشار پیدا ہو اور حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ ایرانی سکیورٹی فورسز یا دیگر عناصر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اقتدار سے ہٹا دیں۔
تاہم اس صورت میں یہ واضح نہیں کہ اقتدار کس کے ہاتھ میں آئے گا یا نئی انتظامیہ امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کس حد تک مختلف رویہ اختیار کرے گی۔
حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف کارروائی میں دلچسپی کی ایک وجہ ایرانی قیادت کی جانب سے ان پر مبینہ قاتلانہ حملے کی کوششیں بھی ہیں۔
ادھر اسرائیل ایک تیسرے راستے پر زور دے رہا ہے، اسرائیلی حکام چاہتے ہیں کہ امریکا ان کے ساتھ مل کر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر دوبارہ حملے کرے کیونکہ انٹیلیجنس حکام کے مطابق ایران نے گزشتہ سال جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے بعد اپنے میزائل پروگرام کو بڑی حد تک بحال کر لیا ہے۔


























Leave a Reply