سعودی عرب کی کمپنی آرامکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے عالمی تیل منڈیوں کے لیے “تباہ کن نتائج”ہوں گے۔
آرامکو کے سی ای او امین الناصر کا کہنا ہے کہ حالانکہ ہم نے ماضی میں بھی رکاوٹوں کا سامنا کیا ہے، لیکن یہ خطے کی تیل اور گیس کی صنعت کو درپیش اب تک کا سب سے بڑا بحران ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بندش جتنی طویل ہوگی اس کے عالمی معیشت کے لیے بھی نتائج اتنے ہی شدید ہوں گے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں، جو 2022 کے بعد بلند ترین سطح تھی۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے بعد خام تیل کی قیمتیں گرگئيں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں 10 فیصد سے زائد کی کمی آئی ہے جب کہ عالمی اسٹاک مارکیٹس نے بھی مثبت ردعمل دیا ہے۔


























Leave a Reply