پاکستان کے سینئر گلوکار جواد احمد نے کہا ہےکہ آج کے فنکاروں کو پیسوں کا لالچ ہے۔
ایک انٹرویو کے دوران جواد احمد نے کہا کہ ‘میں نے سیاست کیلئے اپنے میوزک کی قربانی دی، اس وقت میں کوئی پیسے نہیں کما رہا، مجھے پیسوں کی لالچ نہیں ہے، سمجھ نہیں آتی ہمارے فنکاروں کو پیسوں کی اتنی زیادہ لالچ کیوں ہے۔’
انہوں نے کہا کہ ‘ایک مارکیٹ ہوتی ہے جس میں ایک عام انسان آپ کو سن سکے، ہمارے دور میں کیسٹز(cassettes) پورے پاکستان میں ہر گاؤں تک جاتے تھے، ہم 40 سے 60 لاکھ کیسٹز بیچتے تھے، ایک دفعہ دلیر مہندی صاحب بتارہے تھے کہ اس سے کم کیسٹز ہم بھارت میں بیچتے ہیں۔’
جواد احمد نے مزید کہا کہ ‘ہم گاؤں دیہاتوں میں جا کر گانا گاتے تھے لوگ ہمیں دیکھ کر روتے تھے کہ گلوکار کو دیکھ رہے ہیں، اور ہمیں اچھا لگتا تھا۔’
گلوکار کا کہنا تھا کہ ‘میں فنکاروں سے کہوں گا کہ آپ اپنے چارجز کم کریں اور عوام کیلئے خود کو میسر کریں، پاکستان کی قوم نے ہی آپ کو اتنا بڑا آرٹسٹ بنایا ہے، فنکار پیسے لے کر شادیوں میں گانے جاتے ہیں، کارپوریٹ سے پیسہ لیتے ہیں، یہ لوگ صرف انہیں کے گرد گھومتے ہیں اور عوام میں نہیں جاتے، عوام کیلئے صرف ٹی وی پر نظر آتے ہیں، سماجی طور پر یہ برا ہے اور یہ میرا اپنا خیال ہے۔’


























Leave a Reply