امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا۔
منی سوٹا کے گورنر ٹم والز نے ٹرمپ انتظامیہ سے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی ایجنٹ کی فائرنگ کے ایک اور ہولناک واقعے پر وائٹ ہاؤس سے بات کی ہے۔
انہوں نے اپیل کی کہ صدر ٹرمپ فوراً امیگریشن آپریشن ختم کریں اور ہزاروں پُرتشدد، غیر تربیت یافتہ امیگریشن افسران کو منی سوٹا سے واپس بلائیں۔
دوسری جانب منی ایپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک اور شخص کی ہلاکت کے بعد لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا۔
اس دوران سکیورٹی اہلکاروں کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
مظاہرین نے امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ آپریشن روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ منی ایپولس میں 7 جنوری کو بھی امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے 37 سالہ خاتون رینی گڈ ہلاک ہوئی تھی۔


























Leave a Reply