امریکی شہر منیاپولس میں امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے چھاپےکے دوران ایک اہلکار کی فائرنگ سےخاتون ہلاک ہوگئیں۔
واقعہ رہائشی علاقے میں پیش آیا جہاں غیرقانونی امیگرینٹس کیخلاف آپریشن کی مخالفت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جارہا تھا۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے چھاپے کے دوران کچھ افراد اہلکاروں کا راستہ بلاک کررہے تھے۔
میڈیا رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک خاتون ڈرائیور نے آئی سی ای اہلکار وں کو اپنی گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی جس کے رد عمل میں ایک اہلکار نے خاتون کو گولی مار دی جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی ای افسر کی فائرنگ بظاہر دفاعِ میں تھی، خاتون نے افسر کو گاڑی سےکچلا، خاتون بےنظمی، مزاحمت اور رکاوٹ ڈال رہی تھی اور آئی سی ای افسر نے خود کو بچانے کے لیے فائرنگ کی۔
ادھر رکن کانگریس الہان عمر نے آئی سی ای اہلکار کے اقدام کو ناقابل معافی قرار دیا اور کہا کہ یہ انتہائی قابل مذمت ہیں،کمیونٹیزکی حفاظت کےبجائے شہریوں کے قتل کا سلسلہ شروع کردیا گیا، یہ ریاستی تشدد اور ناقابل معافی ہے، آئی سی ای کو جواب دینا ہوگا۔
مئیر منیا پولس نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی ای افسر نے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون کی جان لے لی۔























Leave a Reply