امریکا نے حالیہ دنوں میں ایران کے قریب اپنے فوجی اثاثوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی۔
امریکی حکام کے مطابق خطے میں امریکی موجودگی میں یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کی طرف ایک بڑ ابحری بیڑا بھیجنے کی بات کی۔
یہ بحری بیڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر مشتمل ہے جس کے ساتھ ٹوما ہاک میزائلوں سے لیس تین جنگی جہاز بھی موجود ہیں۔
امریکی بحریہ کے حکام کے مطابق یہ بحری جہاز پیر کے روز مغربی بحرِ ہند میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرہ اختیار میں داخل ہوئے اور اب بحیرہ عرب میں تعینات ہیں۔
پروازوں کی نگرانی سے متعلق اعداد و شمار بھی اس مقام کی تصدیق کرتے ہیں جن کے مطابق اس طیارہ بردار جہاز کا ایک طیارہ اس ہفتے بحیرہ عرب اور عمان کے درمیان متعدد بار پرواز کرتا رہا۔
امریکی اخبار کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن جس مقام پر تعینات ہے وہاں سے اس پر موجود جدید ایف-35 لڑاکا طیارے اور ایف/اے-18 لڑاکا طیارے ایران کے اندر درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کی حد میں ہیں، اگر صدر ٹرمپ انہیں کارروائی کا حکم دیں۔
اس کے علاوہ امریکی حکام کے مطابق کم از کم ایک درجن ایف-15ای لڑاکا طیارے بھی خطے میں بھیجے گئے ہیں تاکہ زمینی اڈوں سے حملہ کرنے والے طیاروں کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکے۔
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طیارے اردن کے ایک فضائی اڈے پر اسی مقام پر موجود ہیں جہاں جون 2025 میں ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے دوران تعینات تھے۔
پروازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا اضافی طیارے جن میں جدید جنگی جہاز اور ایندھن بھرنے والے طیارے شامل ہیں، خطے کے قریب یا خطے کے اندر منتقل کر رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پینٹاگون نے مزید پیٹریاٹ اور تھاد فضائی دفاعی نظام بھی روانہ کیے ہیں تاکہ خطے میں موجود امریکی فوجیوں کو ایران کے مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ممکنہ جوابی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس وقت خطے میں تقریباً 30 ہزار سے 40 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی اور پینٹاگون کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف آپشنز میں سے کسی ایک کا انتخاب بھی نہیں کیا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اب بھی سفارتی حل کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔
ادھر امریکا میں موجود طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے، یہ طیارے ایران میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


























Leave a Reply