امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آغاز سے قبل ہی خطرے میں پڑ گئے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ امریکا نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ جمعے کو ہونے والے مجوزہ مذاکرات کے مقام اور طریقۂ کار میں تبدیلی سے متعلق ایران کے مطالبات قبول نہیں کرے گا۔
ویب سائٹ کے مطابق اس تعطل کے باعث سفارتی راستہ بند ہو سکتا ہے اور اس طرح صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوجی کارروائی کا فیصلہ کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان طے پایا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان جمعے کو ترکیے کے شہر استنبول میں مذاکرات ہوں گے جن میں مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک مبصرین کے طور پر شریک ہوں گے۔
تاہم ایران نے مطالبہ کیا تھا کہ مذاکرات کا مقام عمان منتقل کیا جائے اور انہیں صرف ایران اور امریکا تک محدود رکھا جائے ساتھ ہی بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رہے اور میزائل پروگرام جیسے دیگر امور زیرِ بحث نہ آئیں۔
امریکی حکام نے مقام کی تبدیلی کی درخواست پر غور کیا لیکن اسے مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔
ویب سائٹ کے مطابق ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ ’ہم نے ان سے کہا کہ یا تو یہی ہوگا یا کچھ نہیں ہوگا اور انہوں نے جواب دیا ‘ٹھیک ہے، پھر کچھ نہیں‘۔
اس عہدیدار نے کہا کہ اگر ایران اصل طے شدہ فارمیٹ پر واپس آنے پر آمادہ ہو جائے تو امریکا اسی ہفتے یا اگلے ہفتے ملاقات کے لیے تیار ہے۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ ’ہم جلد کسی حقیقی معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں ورنہ لوگ دوسرے راستوں کی طرف دیکھیں گے‘، جو صدر ٹرمپ کی جانب سے بارہا دی گئی فوجی کارروائی کی دھمکی کی طرف اشارہ تھا۔
دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا غیر جوہری امور کے حوالے سے بات چیت پر اصرار عمان میں مذاکرات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، ایران امریکا سے صرف جوہری تنازع پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
امریکی حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد و مشیر جیرڈ کشنر جمعرات کو ایران سے متعلق بات چیت کے لیے قطر جائیں گے جہاں وہ قطری وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے۔


























Leave a Reply