وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللّٰہ کا کہنا ہےکہ افغانستان کوبتادیا تھا کہ دہشت گرد اورپاکستان میں کسی ایک کا انتخاب کرلیں، افغانستان کو بات سمجھ نہیں آئی تو ردعمل دیا گیا۔
سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پرجوپالیسی آج اپنائی گئی ہے اسے پہلے اپنانا چاہیے تھا، اگرچند سال قبل یہ پالیسی اپنائی جاتی تو دہشت گردی کا نام ونشان نہ رہتا، وزیراعظم پاکستان نے 4 ماہ قبل افغانستان کو پیغام دیا تھا، افغانستان کوبتادیا تھا کہ دہشت گرد اورپاکستان میں کسی ایک کا انتخاب کرلیں، افغانستان کو بات سمجھ نہیں آئی تو رسپانس دیا گیا۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ جب جب دہشت گرد افغانستان سے پاکستان پرحملے کریں گے ردعمل دیا جائےگا، ہم بانی پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی کوکہتے ہیں کہ آپ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں، ہم انہیں کہتے ہیں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کوبھرپورسپورٹ کریں۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سے متلعق حکومت کے پاس نہ کوئی ڈھیل ہے نہ ڈیل، بانی پی ٹی آئی کا جو بہترین علاج ہوسکتا ہے وہ ہوا ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اسے ریگولیٹ کیا ہے،ڈاکٹرز نے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا، بیرسٹر گوہر خان کو شرکت کی درخواست کی گئی مگر انہوں نے انکار کردیا، آپ نے ایک معائنہ کروایا اور ڈاکٹر نے ٹریٹمنٹ کو درست قرار دیا، اس کی بنیاد پر کہا جاتا ہے اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت نے اس وقت بھی کوشش کی جب آپ اقتدار میں تھے، ہم اس ملک کی بہتری کے لیے آپ کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، ہم چاہتے ہیں آپ پارلیمنٹ کا حصہ بنیں کمیٹیوں میں شرکت کریں، آپ میثاق جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ہمارا ساتھ دیں، آپ سیاسی عمل کا حصہ بننے سے مسلسل انکاری ہیں، آپ نے بھی کیسوں پر عدالتوں سے ریلیف لینا ہے، جو آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں آپ ان سے مذاکرات نہیں کرتے، جو مذاکرات نہیں کرنا چاہتے آپ نے ان کو درخواستیں دی ہوئی ہیں، ہم معاملات کو جمہوری انداز سے بڑھانے کے لیے تیار ہیں، جمہوریت مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈلاک سے نہیں۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ 40 ارب روپے کی فائر وال اگر فیل ہوئی ہے تو وہ دوبارہ بنےگی، اگر فائر وال دوسری باربھی فیل ہوئی تو وہ تیسری باربھی بنےگی، سوشل میڈیا کی یلغار سے اگر آپ خودکو محفوظ نہیں رکھیں گے تو پھرتباہی ہے، اس پر اگر 40 ارب یا 400 ارب بھی لگیں تو کوئی کمپرومائز نہیں ہوسکتا، پوری دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جس نے اس یلغارسے خود کو محفوظ نہ کیا ہوا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے طیارہ خریدنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ جو طیارہ لیا گیا ہے وہ کسی جماعت کا یا چیف منسٹرپنجاب کا کوئی ذاتی اثاثہ نہیں، کچھ لوگوں نے طیارے کو صرف پروپیگنڈےکے لیے ایشو بنایا ہوا ہے، پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے، اس کے بڑے وسائل ہیں، یہ طیارہ جدید ہے، اس نے آگے تیس چالیس سال رہنا ہے، پہلا جو جہاز تھا اس کو 25 ،30 سال بعد ریپلیس کیا جا رہا ہے، یہ طیارہ ٹیکنالوجی کے حساب سے بہتر ہے، یہ پنجاب کا اثاثہ ہے۔


























Leave a Reply