وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نےکہا ہےکہ اس حکومت اور 18 ویں ترمیم کو رد کرتے ہیں، میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی وزارت پرکہ میرے بچے گٹر میں گر کر مرجائیں۔
کراچی میں عوامی اجتماعی سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے مقامی حکومت سے متعلق ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کو رد کیا، 18ویں آئینی ترمیم نے سب خراب کردیا، دنیا کے بدترین شہروں میں کراچی چوتھے نمبر پر آتا ہے، وفاق سے کہتا ہوں آپ فی الفور ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کو منظور کروائیں۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ خاموش ایم کیو ایم کو کمزور ایم کیو ایم نہ سمجھیں، ہم نے یہ طے کیا ہےکہ اس زندگی سے موت اچھی، ہمیں جدوجہد کرنی ہے، اب ہم پر نسل پرستی کا الزام لگا کرتم ہمیں نہیں لڑواسکتے، ہم نے 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کی حمایت کی ہے، اگر آپ میری 26 ویں اور 27 ویں ترمیم میں آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے تو میں 18 ویں ترمیم کی مخالفت کروں گا۔
ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی والے ہمارے وجود تک کو تسلیم کرنےکے لیے تیار نہیں،گنتی ٹھیک کی جائے توکراچی کی آبادی ساڑے 3 کروڑ اور حیدرآباد کی 40 لاکھ ہے، گنتی ٹھیک ہو تو سیٹیں بڑھیں گی اور جو کراچی حیدرآباد میں جیتےگا حکومت بنائےگا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پرانی ایم کیو ایم نہیں ہے، یہ کراچی کے ہر علاقے کی ایم کیو ایم ہے، آج اسٹیج پر سندھی بولنے والے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رہنما موجود ہیں، تم جتنے ڈسٹرکٹ بنا کر تقسیم کی سیاست کرلو ہر جگہ ایم کیو ایم ہوگی، سندھ میں 18 سال سے تمہاری حکمرانی ہے، تم ہمیں گنتے صحیح نہیں ہو،کوٹے پر بھی ہمیں نوکری نہیں دیتے اس پر بھی جعلی ڈومیسائل بنالیتے ہو۔


























Leave a Reply