اسلام آباد میں گاڑی کی ٹکر سے دو بچیوں کی ہلاکت کے کیس میں صلح کا تحریری حکم نامہ جاری کردیاگیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے ٹکر سے دو بچیوں کی ہلاکت کے کیس میں ملزم اور ورثا کے درمیان صلح ہونے سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری کیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق دونوں بچیوں کے ورثا نے اللہ کے نام پر ملزم کو معاف کر دیا، عدالت کے روبرو ایک بچی کے بھائی عدنان تجمل جبکہ دوسری بچی کے والد غلام مہدی پیش ہوئے۔
ورثا کی جانب سے صلح سے متعلق بیانِ حلفی بھی عدالت میں جمع کرائے گئے۔
حکم نامے میں بتایا گیا کہ ورثا نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر ملزم کو ضمانت کے بعد بری بھی کر دیا جائے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
خیال رہے کہ 2 دسمبر کو اسلام آباد میں کار کی ٹکر سے دو لڑکیاں جاں بحق ہوگئی تھیں، ڈرائیور ملزم کے والد کا تعلق عدلیہ سے ہے۔
یاد رہے کہ کمسن ملزم فریقین کی صلح کے بعد پچھلے ہفتے رہا ہوچکا ہے، حادثہ پچھلے دنوں اُس وقت ہوا جب 18 سال سے کم عمر ملزم نے تیز رفتار لگژری گاڑی چلاتے ہوئے اسلام آباد میں پی ٹی وی چوک پر اسکوٹی کو ٹکر ماری۔
عینی شاہدین کے مطابق لڑکا انتہائی لاپروائی سے گاڑی چلا رہا تھا۔ حراست میں لیے جانے کے بعد لڑکے نے یہ بھی بتایا کہ حادثے کے وقت وہ سوشل میڈیا کے لیے ویڈیو بنا رہا تھا۔ اسلام آباد پولیس کے ایک اہل کار کے مطابق حراست میں لیا گیا لڑکا اعلیٰ عدالتی شخصیت کا بیٹا ہے جس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں تھا۔
حادثے کے بعد ایک لڑکی کے والد نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ جج صاحب اظہار ہمدردی کے لیے گھر آئے تھے اور انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ غلطی ان کے بیٹے کی ہے۔ والد کے مطابق اس ملاقات میں دیت پر کوئی بات نہیں ہوئی۔






















Leave a Reply