اسرائیل نے خود ساختہ جمہوریہ صومالی لینڈ کو آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر باضابطہ تسلیم کرنےکا اعلان کردیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہےکہ اسرائیل صومالی لینڈ کے ساتھ زراعت، صحت، ٹیکنالوجی اور معیشت کے شعبوں میں فوری تعاون کا خواہاں ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہےکہ یہ اعلان ابراہام معاہدوں کی روح کے مطابق ہے۔
دوسری جانب صومالیہ نے اسرائیلی اقدام کو سختی سے مستردکرتے ہوئے اسے غیر قانونی قدم اورخود مختاری پر دانستہ حملہ قرار دیا ہے۔
صومالیہ کی وزارت خارجہ نےکہا ہےکہ تمام ممالک اور بین الاقوامی شراکت دار بین الاقوامی قانون کا احترام کریں، عدم مداخلت اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کی پاسداری کریں اور افریقا میں امن ،استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔
صومالیہ کی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ صومالی لینڈ جمہوریہ صومالیہ کی خودمختار سرزمین کا ناقابل تقسیم اور ناقابل علیحدہ حصہ ہے، صومالیہ ایک واحد خودمختار ریاست ہے جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
سعودی عرب اور پاکستان نے اسرائیلی اقدام مسترد کردیا
سعودی عرب نے بھی صومالی سرزمین پر ایک نئے ملک کے قیام کو اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یہ یکطرفہ علیحدگی کی کوشش بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان نے بھی اسرائیل کی جانب سے نام نہاد صومالی لینڈ تسلیم کرنے کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے صومالیہ کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانےکی کسی بھی کوشش کو مسترد کردیا ہے۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہےکہ ایسے غیرقانونی اور اشتعال انگیزاقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، یہ اقدامات صومالیہ اورپورے خطے کے امن واستحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
اس کے علاوہ مصر ، ترکیے ، جبوتی اورافریقی یونین نے بھی اسرائیلی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہےکہ علیحدہ علاقوں کو تسلیم کرنا عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔
واضح رہےکہ صومالی لینڈ نے 1991 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور وہ عملی طور پر خودمختار بھی ہے تاہم اب تک اسےکسی بھی دوسرے ملک کی جانب سے باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا تھا، عالمی سطح پر اسے صومالیہ کے اندر ایک خود مختار انتظامی خطے کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے۔






















Leave a Reply