امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کو کمزور آدمی قرار دیتے ہوئےکہا ہے کہ اگر نیتن یاہو وزیر اعظم نہ ہوتا تو اسرائیل کا وجود بھی نہ ہوتا۔
اسرائیلی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے اسرائیلی صدر ہرزوگ کو کمزور اور غیر مؤثر شخص قرار دیا اور کہا کہ وہ معافی کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اسے نیتن یاہوکے سر پر لٹکا رہے ہیں، انہوں نے نیتن یاہو کو معافی دینے سے انکار کیا ہے۔
ٹرمپ نے نیتن یاہو کی تعریف کرتے ہوئے کہا اگر نیتن یاہو وزیر اعظم نہ ہوتا تو شاید آج اسرائیل ہی موجود نہ ہوتا، میں مکمل طور پر نیتن یاہوکے ساتھ ہوں۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے خیال میں کوئی اور رہنما وہ کامیابیاں حاصل کرسکتا تھا جو انہوں نے اور نیتن یاہو نے مل کر حاصل کی ہیں، تو انہوں نے جواب دیا میرا خیال ہے نہیں۔
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا دیگر ممالک بھی اس میں حصہ لیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ کم از کم آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے معاملے میں ایسا ہوسکتا ہے۔ یہ ممالک تمام تیل وہیں سے حاصل کرتے ہیں جبکہ ہمیں اس آبنائے سے کچھ نہیں ملتا اس لیے انہیں اس میں حصہ لینا چاہیے۔


























Leave a Reply