اسمارٹ فونز کا استعمال تو اب دنیا بھر میں ہو رہا ہے اور اربوں افراد کے ہاتھوں میں یہ ڈیوائسز نظر آتی ہیں۔
مگر اب 2 نئی تحقیقی رپورٹس میں اسمارٹ فونز کے استعمال کا حیرت انگیز اثر سامنے آیا ہے۔
امریکا کے نیشنل بیورو آف اکنامکس ریسرچ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ 2007 سے اب تک امریکا میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں 22 فیصد کمی آئی ہے۔
خیال رہے کہ 2007 وہ برس تھا جب پہلا آئی فون متعارف کرایا گیا اور تحقیق میں آئی فون یا اسمارٹ فونز کو برتھ کنٹرول (شرح پیدائش میں کمی کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات) قرار دیا گیا۔
ویسے تو ماہرین امریکا میں شرح پیدائش میں کمی کو کافی عرصے تک 2008 کے عالمی اقتصادی بحران سے منسلک کرتے رہے جس کے دورن کروڑوں افراد کو مشکلات کا سامنا ہوا مگر جب معیشت ایک بار پھر بحال ہوئی تو بھی پیدائش کی تعداد معمول پر واپس نہیں آئی۔
دیگر وجوہات میں مانع حمل مصنوعات کے استعمال میں اضافہ، خواتین کی تعلیم کی شرح میں اضافہ، گھر یا بچوں کی نگہداشت کے اخراجات وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
مگر اس تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ 2007 میں آئی فون کے متعارف کرانے کے بعد اسمارٹ فونز کے استعمال سے اس حوالے سے کیا اثرات مرتب ہوئے۔
2011 تک آئی فونز صرف ایک امریکی موبائل نیٹ ورک میں دستیاب تھے تو متعدد علاقوں میں ان کا استعمال نہیں ہو رہا تھا مگر اس عرصے میں جہاں یہ اسمارٹ فونز دستیاب تھے، وہاں 15 سے 24 سال کی عمر کی خواتین میں شرح پیدائش میں 4.5 سے 8 فیصد تک کمی آئی۔
24 سال سے زائد عمر کی خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش میں معمولی کمی آئی۔
محققین کے مطابق محض آئی فونز کو ہی واحد وجہ نہیں قرار دیا جاسکتا مگر یہ واضح ہے کہ 2007 میں اسمارٹ فونز کی آمد کے بعد سے امریکا میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں کمی آئی ہے کیونکہ سماجی میل جول گھٹ گیا ہے۔
اسی طرح امریکا کی Cincinnati یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق میں بھی عالمی سطح پر اس سے ملتے جلتے اثر کو دریافت کیا گیا۔
اس تحقیق میں دنیا کے 128 ممالک میں اسمارٹ فونز کے استعمال کی شرح اور نوجوانوں میں شرح پیدائش کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جب اسمارٹ فونز بڑے پیمانے پر دستیاب ہوئے تو شرح پیدائش میں کمی کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
محققین نے اسے مشترکہ عالمی ٹیکنالوجی شاک قرار دیا۔
عالمی سطح پر امیر اور غریب دونوں طرح کے ممالک میں شرح پیدائش میں کمی آئی ہے جس سے معمر افراد کی تعداد بڑھی ہے اور افرادی قوت گھٹ گئی ہے اور سماجی سکیورٹی نظام پر دباؤ بڑھا ہے۔


























Leave a Reply