پاکستانی رنرز نے کیپ ٹاؤن میراتھون 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر عالمی میراتھون منظرنامے پر پاکستانی رننگ کمیونٹی کا نام روشن کردیا۔
کیپ ٹاؤن میراتھون کامیابی سے مکمل کرکے کراچی کے فیصل شفیع اور برطانوی پاکستانی رنر ہما رحمٰن نے عبوری طور پر آٹھواں ورلڈ اسٹار حاصل کرلیا۔
ٹیبل ماؤنٹین کے دلکش مناظر کے سائے تلے دوڑی جانے والی اس میراتھون میں دنیا بھر سے 27 ہزار سے زائد رنرز نے شرکت کی، تاہم پاکستانی رننگ کمیونٹی کے لیے سب سے نمایاں لمحہ فیصل شفیع اور ہما رحمٰن کی کارکردگی رہی۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے فیصل شفیع نے 42.195 کلومیٹر طویل ریس 3 گھنٹے، 35 منٹ اور 37 سیکنڈ میں مکمل کرکے پاکستان میں رہتے ہوئے 8 ورلڈ میراتھون اسٹار مکمل کرنے والے پہلے پاکستانی ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔
فیصل شفیع نے ریس مکمل کرنے کے بعد جیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ میرا آٹھواں اسٹار ہے۔ دراصل آٹھواں میجر گزشتہ سال کیپ ٹاؤن میں ہونا تھا لیکن خراب موسم کے باعث میراتھن منسوخ کردی گئی تھی۔‘‘
کیپ ٹاؤن میراتھون اس وقت ایبٹ ورلڈ میراتھن میجرز میں شمولیت کے امیدواری مرحلے میں ہے۔ منتظمین نے ریس سے قبل اعلان کیا تھا کہ تمام فِنشرز کو عبوری میجر اسٹار دیا جائے گا، بالکل اسی طرح جیسے سڈنی میراتھن کو باضابطہ میجر بننے سے قبل دیا گیا تھا۔ اگر کیپ ٹاؤن کو باضابطہ منظوری مل جاتی ہے تو یہ ایبٹ ورلڈ میراتھن میجرز سیریز میں شامل ہونے والی پہلی افریقی ریس بن جائے گی۔
ورلڈ میجرز کی فہرست میں اس وقت ٹوکیو، بوسٹن، لندن، برلن، شکاگو، نیویارک اور سڈنی کی میراتھونز شامل ہیں۔
فیصل شفیع نے کہا کہ ’’میں پاکستان کا پہلا 8 اسٹار فِنشر ہوں اور پاکستان میں رہتے ہوئے 8 اسٹار مکمل کرنے والا بھی پہلا شخص ہوں۔ یہ پاکستانی میراتھون رننگ کے لیے ایک بہت بڑی پیشرفت ہے کیونکہ ابھی دنیا میں صرف چند سو افراد نے ہی یہ کارنامہ انجام دیا ہے”
فیصل شفیع نے ریس کا نصف مرحلہ 1 گھنٹہ 39 منٹ 56 سیکنڈ میں مکمل کیا اور ابتدائی 30 کلومیٹر تک فی کلومیٹر تقریباً 4 منٹ 44 سے 46 سیکنڈ کی رفتار برقرار رکھی۔
دوسری جانب برطانوی پاکستانی رنر ہما رحمٰن نے بھی شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے میراتھون 3 گھنٹے، 31 منٹ اور 34 سیکنڈ میں مکمل کی اور مجموعی طور پر پاکستانی اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے گروپ میں تیز ترین رہیں۔ فیصل شفیع کی طرح انہوں نے بھی اپنے 8 اسٹار مکمل کئے ۔ وہ آٹھواں ورلڈ اسٹار حاصل کرنے والی پہلی برطانوی پاکستانی رنر بن گئیں۔
ہما رحمٰن کی دوڑ کو مستقل مزاجی اور بہترین رفتار کی مثال قرار دیا جارہا ہے۔ انہوں نے 5 کلومیٹر کا فاصلہ 25 منٹ 52 سیکنڈ، 10 کلومیٹر 51 منٹ 36 سیکنڈ اور 15 کلومیٹر 1 گھنٹہ 16 منٹ 45 سیکنڈ میں مکمل کیا، جبکہ ہاف میراتھون کا مرحلہ 1 گھنٹہ 46 منٹ 43 سیکنڈ میں عبور کیا۔ بعد کے مراحل میں بھی انہوں نے تقریباً فی کلومیٹر 5 منٹ کی رفتار برقرار رکھی، جو مشکل کورس پر غیرمعمولی برداشت اور تجربے کی علامت ہے۔
پاکستان اور اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کے مجموعی طور پر 6 رنرز نے اس سال کیپ ٹاؤن میراتھون میں حصہ لیا۔
کراچی کی حنا شوکت نے پرسنل بیسٹ کارکردگی دکھاتے ہوئے ریس 4 گھنٹے 31 منٹ 23 سیکنڈ میں مکمل کی، جبکہ لاہور کی آمنہ سبطین ، جو پہلی بار کسی میراتھون میں شریک تھیں، نے اپنی دوڑ 4 گھنٹے 44 منٹ 51 سیکنڈ میں مکمل کی۔ کاشف ذوالفقار نے بھی چند سیکنڈ بعد فنش لائن عبور کی۔
کراچی کی حنا شوکت کا کہنا تھا کہ کیپ ٹاؤن میراتھون ان کی زندگی کی تیسری میراتھون تھی جس میں انہوں نے اپنا پرسنل بیسٹ چالس منٹ کے فرق کے ساتھ بہتر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فنش لائن پر فیملی کی موجودگی نے ان کیلئے اس دوڑ کو اور بھی اسپیشل بنادیا تھا اور یہ ان کے زندگی کی سب سے بہتر دوڑ ہے۔
اس کے علاوہ کینڈین پاکستانی زیاد رحیم نے بھی کیپ ٹاؤن میراتھون مکمل کی ۔ انہوں نے فاصلہ 6 گھنٹے 54 منٹ اور 33 سیکنڈز میں مکمل کیا۔


























Leave a Reply