کراچی: کسی شہر میں پولیس نفری مطلوبہ معیار کے مطابق نہ ہو تو جرائم کی روک تھام ممکن نہیں رہتی اور کراچی بھی اسی صورتحال سے دوچار ہے پولیس نفری مطلوبہ تعداد سے کافی کم ہے۔
سرکاری اعدادو شمار کے مطابق کراچی کی آبادی 2 کروڑ 3 لاکھ سے زائد ہے تاہم اس میں وہ لاکھوں افراد شامل نہیں جو روزگار اور دیگر وجوہات کے سبب ملک کے دیگر مقامات سے یہاں آبسے ہیں۔
منصوبہ بندی کے بغیر قائم ہونے والی بے تحاشا پسماندہ بستیاں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزگار کے محدود ہوتے ذرائع وہ بنیادیں ہیں، جنہیں سماجی ماہرین جرائم میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہیں۔
کراچی میں پولیس نفری کا جائزہ پیش کریں تو تین زون کے 8 اضلاع میں 110 تھانے ہیں، اس میں ایسٹ زون کے تین اضلاع، ضلع ایسٹ، ضلع کورنگی اور ضلع ملیر شامل ہیں، جن میں ڈی آئی جی، ایس ایس پیز، ایس پیز، ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز اور مرد و خواتین سمیت 11 ہزار 500 اہلکاروں پر مشتمل نفری تعینات ہے۔
ویسٹ زون میں ضلع ویسٹ اور ضلع سینٹرل شامل ہیں، جن میں مجموعی طور پر اعلی افسران سے لے کر سپاہی تک 6750 کی نفری تعینات ہے۔
ساوتھ زون کی بات کی جائے تو اس میں ضلع ساوتھ، ضلع سٹی اور ضلع کیماڑی شامل ہیں، جن میں ایک ڈی آئی جی ،تین ایس ایس پیز،7 ایس پیز، 17 ڈی ایس پیزاور 37 ایس ایچ اوز سمیت 8100 نفری تعینات ہے۔
کراچی میں جرائم کی روک تھام کیلئے مجموعی طور پر اعلی افسران، تفتیشی شعبے اور آپریشنل پولیس کو ملا کر 26350 کی نفری تعینات ہے جبکہ دیگر پولیس نفری میں 16152 افسران و اہلکار دفتری امور اور دیگر شعبوں میں تعینات ہیں۔
اس کے علاوہ وی وی آئی پی اور وی آئی پی سکیورٹی پر 5461 افسران و اہلکار تعینات ہیں۔
عالمی معیار کے مطابق تین سو سے چار سو شہریوں کیلئے ایک پولیس اہلکار کا ہونا ضروری ہے تاہم کراچی میں 774 شہریوں پر ایک پولیس اہلکار تعینات ہے۔
ان اعداد و شمار کو دیکھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کراچی کے جرائم پر قابو پانا انتظامیہ کے لیے کیوں مشکل ہو گیا ہے۔


























Leave a Reply