کراچی : صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں کو براہِ راست مالی وسائل فراہم کرکے ان کی بہتری کے لیے شروع کیے گئے اقدام کو محکمہ خزانہ اور ٹریژری دفاتر میں انتظامی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
اس صورتحال میں اسکولوں کے لیے مختص کروڑوں روپے کے فنڈز کے استعمال پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوبے بھر کے مختلف اضلاع میں محکمہ تعلیم کے افسران ٹریژری برانچوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں تاہم مطلوبہ دستاویزات اور قواعد کے مطابق تیار کردہ بلز کے باوجود ان کی وصولی نہیں کی جارہی ہے۔
متعدد اضلاع سے تعلق رکھنے والے افسران نے شکایت کی ہے کہ کئی دنوں کی کوششوں کے باوجود وہ اپنے بل جمع کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

























Leave a Reply