بھارتی فلم ساز راجکمار ہیرانی کی مشہور بالی وڈ فلم ‘پی کے’ میں ایک نابینا بھکاری کے 5 سیکنڈ کے کردار نے اس اصلی بھکاری کی زندگی بدل دی۔
سال 2014 میں بننے والی اس فلم میں بھکاری کے کردار کیلئے 8 اصلی بھکاریوں میں سے ایک منوج رائے کا انتخاب کیا گیا تھا۔
فلم کے سین میں منوج رائے پل پر سڑک کنارے چھڑی، کشکول پکڑے سیاہ گھنا چشمہ پہنے بھیک مانگنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے کہ فلم کے ہیرو ‘پی کے’ (عامر خان) اس کے پاس آتا ہے اور کشکول سے کچھ پیسے چراتا ہے۔
کردار ختم، لیکن پی کے فلم ریلیز ہونے کے بعد اس کردار کی اصل زندگی سامنے آتی ہے، ‘پی کے‘ میں اداکاری کرنے کیلئے منوج کو 16 ہزار روپے معاوضہ دیا گیا اور وہ آسام کے سونیت پور ضلع میں اپنے گاؤں چلا گیا جہاں اس کا استقبال کیا گیا، اس نے بھیک مانگنے کا پیشہ چھوڑ دیا اور کریانہ کی دکان کھول لی اور وہ آج بھی اپنے گاؤں میں یہ دکان چلاتا ہے۔
انتہائی غریب گھر سے تعلق رکھنے والے منوج کمار کا ماضی کسمپرسی میں گزرا، یومیہ مزدور کے بیٹے منوج نے ماں کو بچپن میں کھودیا، باپ بیمار تھا، پانچویں جماعت سے اسکول چھوڑ دیا اور روزی روٹی کیلئے بھیک مانگنے کا انتخاب کرکے دہلی چلا گیا۔
منوج نے اپنے نابینا ہونے کا بہانہ کرکے بھیک مانگنا شروع کردی، اسی کام کے دوران اسے فلم والوں نے پوچھا کہ اداکاری آتی ہے، منوج نے کہا کہ دن میں دو وقت کھانے کیلئے وہ اداکاری ہی تو کررہا ہے۔
انہوں نے منوج کو 20 روپے کا نوٹ اور ایک فون نمبر دیا، اگلے دن فون کرکے اسٹیڈیم پہنچ گیا، جہاں بڑا ہجوم تھا، 7 دیگر بھکاریوں کو دیکھا لیکن اسے منتخب کرلیا گیا، جب اسے دہلی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔
منوج کا کہنا تھا کہ کچی آبادیوں میں پانی کی کمی کی وجہ سے کئی دن نہا نہیں پاتا تھا لیکن ہوٹل کے سوئمنگ پول میں خوب غوطے لگائے، وہاں وہ عامر خان اور انوشکا شرما کے ساتھ تھا، لوگ اب مجھے پی کے ہنی سنگھ کہتے ہیں، میرا فیس بک اکاؤنٹ ہے، منوج رائے اب آسامی اور بنگالی فلموں میں کام کرنے کا منتظر ہے۔

























Leave a Reply